Hawwa Ki Baiti (Urdu) 

​آج صبح سے ہی موسم خشگوار ہے شاید اسی لئےگوگا مرغ چنے جو ماڈل ٹاون میں واقع ہےکا ناشتا کرنے کا من کیا۔ گھر سے اپنی گاڑی نکال کر موسم کو انجوائے کرتا ہوا گوگا چنے پہنچا۔ میرے وہاں پہنچتے ہی ایک ویٹر جو کہ عمومن میرے لیے ناشتا میز پر لگاتا ہے فوراًُ آیا اور میز صاف کر کہ ناشتا لگوا کر لے آیا۔ 

                 بارش بہت تیز ہو چکی تھی،میں موسم کے ساتھ ساتھ لذیذ ناشتے سے بھی لطف اندوز ہو رہا تھا، اسی دوران ایک میاں بیوی (جو کہ شاید نو بیہتا جوڑاتھا) بارش میں مذید بھیگنے سے بچنے کے لئے گوگا چنے والے کے سامنے  اپنی موٹر سائکل پارک کر کہ سائبان کے نیچے کھڑے ہو گئے۔ بارش کافی تیز تھی اسی لیے وہ جوڑا مکمل بارش میں بھیگ چکا تھا۔

                  اتفاق سے میں نے ویٹر کو بل منگوانے کے لئے جب آواز دی تو وه موصوف آنکھیں پھاڈ پھاڈ کر حوّا کی مجبور بیٹی کو اپنی آنکھوں کی حوّس کا نشانہ بنا رہا تھا۔ ذیاده افسوس تب ہوا جب میں نے دیکھا کہ وہاں پر موجود ہر شخص اسی خاتون کی طرف نظریں جمائے ہوئے تھا۔ 

                   اس حوّا کی بیٹی کو شائد یہ بھی معلوم نہ تھا کہ کتنے بھیڑئے شکاری کی نظر سے اسے دیکھ رہے ہیں۔  ایمان کا تو یہ عالم تھا کہ ایک شخص اپنی لالچی نظروں سے مسکراتے ہوئے اس خاتون کی طرف آس پاس کے لوگوں کی توجہ مرکوز کروا رہا تھا اور ساتھ استغفرالللہ کا ورد کئے جا رہا تھا۔ کیش کائونٹر پر  ایک شخص جو کہ سر پر ٹوپی اور ہاتھ میں تسبیح لئے بیٹھا تھا اچانک بولا ” یا الللہ ہور بارش پا”

کائونٹر پر بل ادا کر کہ باہر نکلتے وقت میرے ذہن میں ایک ہی بات گردش کر رہی تھی کہ کاش یہی وقت ایک دن ان لوگوں پر آئے، پھر انکو احساس ہو کہ اپنی عزت جب ایسے بھوکے بھیڑیوں کی نظروں کا شکار ہوتی ہے تو کیسا محسوس ہوتا ہے۔

                                                   بقلم خود

                                                 واثق وجدان
I have clipped this small true story from my friend’s timeline. His name is Wasiq Wajdan.