وصیت

ایک شخص نے اپنے بیٹے سے وصیت کرتے ہوئے کہا: بیٹا! میرے مرنے کے بعد میرے پیروں میں یہ پھٹے پرانے موزے پہنا دینا, میری خواہش ہے مجھے قبر میں اسی طرح اتارا جائے.
باپ کا مرنا تھا کہ غسل و کفن کی تیاری ہونے لگی چنانچہ حسب وعدہ بیٹے نے عالم دین سے وصیت کا اظہار کیا مگر عالم دین نے اجازت نہ دیتے ہوئے فرمایا: ہمارے دین میں میت کو صرف کفن پہنانے کی اجازت ہے.
مگر لڑکے نے کافی اصرار کیا جسکی بناپر علماء شہر ایک جگہ جمع ہوئے تاکہ کوئی نتیجہ نکل سکے , مگر ہونا کیا تھا ….. لفظی تکرار بڑھتی گئی…..
اسی اثناء ایک شخص وارد مجلس ہوا اور بیٹے کو باپ کا خط تھمادیا جسمیں باپ کی وصیت یوں تحریر تھی…..
میرے پیارے بیٹے,دیکھ رہے ہو؟
کثیر مال ودولت,جاہ و حشم,باغات,گاڑی,کارخانہ اور تمام امکانات ہونے کے باوجود اس بات کی بھی اجازت نھیں کہ میں ایک بوسیدہ موزہ اپنے ساتھ لے جاسکوں .
ایک روز تمہیں بھی موت آئے گی آگاہ ہوجاؤ کہ تمہیں بھی ایک کفن ہی لیکے جانا پڑے گا.
لہذا کوشش کرنا کہ جو مال و دولت میں نے ورثہ میں چھوڑی ہے اس سے استفادہ کرنا نیک راہ میں خرچ کرنا بے سہاروں کا سہارا بننا کیونکہ جو واحد چیز قبر میں تمہارے ساتھ جائے گی وہ تمہارے اعمال ہونگے

Advertisements

Very Nice Fiction in Urdu. You Must Read It

ایک آدمی کی شادی اس لڑکی سے ہوئی جسے وہ پسند کرتا تھا- یہ ایک بہت بڑا فنکشن تھا- اس کے تمام دوست احباب اس کی خوشی میں شرکت کرنے آئے تھے- یہ دن ان سب کے لئے بھی ایک یادگار دن تھا- وہ لڑکی لال جوڑے میں ملبوس بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی- لڑکا بھی اپنی کالی شیروانی میں بہت دلکش لگ رہا تھا- وہ دونوں ساتھ میں بہت اچھے لگ رہے تھے- ہر کوئی کہہ سکتا تھا کہ ان کا پیار ایک دوسرے کے لئے بہت سچا تھا-

کچھ مہینے بعد وہ لڑکی اپنے شوہر کے پاس آئی اور اس سے کہنے لگی کہ میں نے ایک میگزین میں پڑھا ہے کہ کس طرح اپنی شادی کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے- اسکے لئے ہمیں یہ کرنا ہوگا کہ ہم دونوں اپنی اپنی ایک لسٹ تیار کریں گے ،جس میں ہم ایک دوسرے کی وہ تمام باتیں لکھیں گے جو ہمیں ایک دوسرے میں بری لگتی ہیں- اور پھر ہم اس پر بات کریں گے کہ کس طرح ہم اسے حل کرسکتے ہیں اور اپنی زندگی ایک ساتھ خوشی خوشی گزار سکتے ہیں- اسکا شوہر راضی ہوگیا-

اس لڑکی نے کہا کہ اب ہم دونوں الگ الگ کمروں میں جائیں گے اور ان باتوں کے بارے میں سوچیں گے جو ہمیں خفا کرتی ہیں- انھوں نے اس بارے میں پورا دن سوچا اور وہ تمام باتیں جو انھیں ناراض کرتی تھیں لکھتے گئے-

اگلے دن صبح ناشتے کی میز پر انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی اپنی لسٹ پڑھیں گے- اسکی بیوی نے کہا کہ پہلے میں شروع کروں گی- اس نے اپنی لسٹ نکالی اس میں بہت ساری چیزیں تھیں- اس نے تین صفحات پر وہ تمام عادتیں لکھ دی تھیں جو اسے اپنے شوہر کی بری لگتی تھیں-

جیسے ہی اس نے چھوٹی چھوٹی شکایتوں کی وہ لسٹ پڑھنا شروع کی اس نے دیکھا کہ اس کے شوہر کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے- اس نے اپنے شوہر سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے ؟ تو اس پر اس کے شوہر نے جواب دیا کہ کچھ نہیں، اور اس سے کہا کہ وہ اپنی لسٹ پڑھتی رہے- وہ لڑکی پڑھتی گئی جب تک کہ اس نے وہ تینوں صفحات اپنے شوہر کو نہ سنا دئیے-
اس نے اپنی لسٹ میز پر رکھی اور اپنے ہاتھ باندھ کر بیٹھ گئی-اس کے بعد اس نے خوش ہو کر اپنے شوہر سے کہا کہ وہ اپنی لسٹ پڑھے تاکہ پھر وہ لوگ ان دونوں لسٹوں میں موجود باتوں پر غور کریں اور سوچیں کہ ان مسئلوں کو کیسے حل کیا جا سکتا ہے؟

اس کے شوہر نے بہت نرمی سے کہا کہ میری لسٹ میں کچھ بھی نہیں لکھا ہے- میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم جیسی ہو بہت اچھی ہو اور میرے لئے بالکل مکمل ہو- میں نہیں چاہتا کہ تم میرے لئے کچھ بھی بدلو- تم بہت خوبصورت اور خوب سیرت ہو- میں کبھی تمہیں بدلنا نہیں چاہوں گا اور نہ ہی ایسی کوئی کوشش کروں گا-

وہ لڑکی اپنے شوہر کی پر خلوص محبت، اس کے پیار کی گہرائی اور اپنے لئے اس کی سوچ دیکھ کر بہت متاثر ہوئی- اس کی آنکھیں جھک گئیں اور وہ رو پڑی-

زندگی میں ایسے بہت سے مواقع آتے ہیں جب ہم پریشان اور خفا ہو جاتے ہیں- ہمیں ان کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ اس دنیا اور اپنے رشتوں کی خوبصورتی کو محسوس کرنا چاہئے-

ہم خوش رہ سکتے ہیں اگر ہم اچھی چیزوں کی تعریف کریں اور ایک دوسرے کی غلطیوں کو بھلا دیں- اس دنیا میں کوئی بھی مکمل نہیں ہے ،لیکن ہم ایک دوسرے کو مکمل دیکھ سکتے ہیں اگر ہم ایک دوسرے کی غلطیوں کو نظرانداز کرنا سیکھ جائیں-

ایک اچھے رشتے کے لئے ضروری ہے کہ آپ ایک دوسرے کو سمجھیں اور ایک دوسرے کی مدد کریں- اسطرح آپ اپنی زندگی میں خوشیاں بھر سکتے ہیں

Source: https://www.facebook.com/sherazi.fans.pk/posts/1550244998588956?comment_id=1550276145252508&notif_t=comment_mention

Aisa lgta hai k wo mujh se khafa pehly se tha…

Wo kisi ki zindgi ka aasra pehly se tha,
Kya samjh bethy usay jo bewafa pehly se tha,

Dukh to ye hai k ye ranjishon ka silsila pehly se tha,
Us k or mery darmiyan ye faasla pehly se tha,

Koi dhokay se usay mera qatil na keh uthay,
Us k haathon me ye rang-e-hina pehly se tha,

Wo meri dastan sun’nay se pehly hi ro dya,
Kya wo mery dard se aashna pehly se tha,

Baat krny pr wo le betha purani ranjishain,
Aisa lgta hai k wo mujh se khafa pehly se tha…